حضرت بہلول کو عرف عام میں حضرت بہل داناؒ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے فضل بن ربیع نے بغداد میں ایک مسجد کی بنیاد ڈالی اپنے خرچ پر اسے بنوایا ۔تعمیر مکمل ہوی ۔تو مسجد کے دروازے پر کتبہ لگانے کی باری آئی ۔فضل بھی اس موقع پر آیا ۔پوچھا گیا کتبہ پر کونسی عبارت لکھوائی جائے۔فضل نے کہا ۔ظاہر ہے اس پر میرا ہی نام لکھا جائے گا ۔حضرت بہلول داناؒکا اتفاقاً قریب سے گزر ہوا ۔ فرمایا فضل کیا مجھ دیوانے کو بتانا گوارہ کرو گے۔کہ یہ مسجد کس کے لیے بنوائی ہے ۔فضل کہنے لگا یہ خدا کا گھر ہے اسے میں نے الله کے لیے بنایا ہے ۔
بہلول مسکراے اور فرمایا، بجا ہے کہ یہ مسجد الله کے لئے ہے۔تو اپنا نام کیوں لکھوا رہے ہو؟
آخرلوگوں کو بھی پتا چلے کہ یہ مسجد میں نے بنوائی ہے،فضل نے بڑے غرور سے کہا ۔
حضرت بہلول ؒنے فرمایا چلو اپنا نام ہی لکھوادوں۔تاکہ تمہاری شہرت اورنیک نامی ہو۔لیکن ثواب کا خیال اپنے دل میں نہ لانا ۔یہ کہہ کے بہلول دانا آگے چلے گئے ۔
فضل جھک گیا اور ندامت سے بولا ۔بہلول کو پوچھو جو کہتا ہے کتبہ پر وہی لکھ دو۔لوگ پیچھے دوڑے اور حضرت بہلول سے پوچھنے لگے کہ کتبہ پر کیا لکھا جائے؟ حضرت بہلول نے فرمایا قرآن پاک کی آیات سے بہتر اور کچھ نہیں۔جو اس کتبہ پر کندہ کیا جائے ۔
فضل نے بھی اس بات کی تائید کی ۔اور کتبہ پر آیات قرانی لکھوادی گئیں ۔
آج بھی ہمارا معاشرہ شہرت، مفادات اور اپنی جھوٹی شان کی خاطر مساجد اور عبادت گاہوں کو استعمال کرتاہے۔لوگ شاید نام تو کما لیتے ہیں مگر اپنی نیات کی بدولت اجر سے محروم ہو جاتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے دینی، دنیاوی، معاشرتی اورقانون کے ٹھیکیدار اپنی اپنی پوشاکوں میں بہت بڑے مافیاز ،بہت بڑے ڈکیت اور اپنے اپنے شعبے کے بہت بڑے مجرم ہیں ۔
گوجرخان کی محلہ حافظہ آباد کی علی مسجد (جس کے متولی آجکل بدر ایڈوکیٹ صاحب ہیں) اسی طرز پر اپنے مفاد کے لیے بنائی گئ مسجد ہے ۔جس کی تعمیر میں ساتھ موجود راجہ یعقوب صاحب کی پراپرٹی کی چھ فٹ جگہ مسجد کے سٹور کی تعمیر میں بغیر اجازت شامل کر لی گئ کیونکہ وہ پلاٹ خالی تھا اور ایڈوکیٹ بدر کے والد صفدر صاحب (مرحوم) اور دادا مرحوم نے چالاکی سے یہ زمین شامل کر لی ۔مسجد کی تعمیر کے وقت تین اطراف میں مرحوم کی اپنی زمین تھی اور انھوں نے تین اطراف میں دروازے رکھے۔چوتھی سائیڈ پر راجہ یعقوب صاحب کی زمین تھی۔جس کی طرف دروازہ نہ رکھا گیا نہ ہی اخلاقا رکھا جانا چاہیے تھا۔
راجہ یعقوب صاحب کا کام کی مصروفیت کی وجہ سے جانا بہت ہی کم تھا ۔موقع سے فائدہ اٹھا کر صفدر مرحوم نے نہ صرف اپنی زمین کی سائیڈ کے دروازے بند کیے بلکہ دو دروازے راجہ یعقوب کے پلاٹ کی جانب رکھ کر نمازیوں کے لیے گزر گاہ بنا ڈالی۔راجہ یعقوب صاحب نے تنازعات سےبچنے، لوگوں کی آسانی کیلئے اور صدقہ جاریہ کیلئےراستہ چھوڑدیا کچھ عرصے کے بعد تیسرا دروازہ بھی ساتھ میں اسی پلاٹ کی دوسری طرف رکھ دیا۔ان تینوں دروازوں کو بنانے کی نہ ہی اجازت لی اور نہ ہی بتانا مناسب سمجھا۔اس پر سینہ زوری اتنی چھ فٹ پر قبضہ کے بعد مزید مسجد کے اسٹور کا شیڈ تین فٹ باہر نکال کر اسے دوسری گلی ڈکلیر کر دیا۔
اس پر سونے پہ سہاگہ "انصاف کے چمپیئن" اور "قانون کے رکھوالے" ایڈوکیٹ بدر علی نے بغیر مطلع کیے غیرموجودگی سے فائدہ اٹھا کر راجہ یعقوب صاحب کے پلاٹ کے سنٹر سےگیس پائپ لائن گزار کر مسجد میں گیس کامیٹر نصب کر دیا اور وہاں سے گیس پائپ لائن اپنے گھر کے اندر لے گیا جو آج بھی استعمال کی جا رہی ہے اور جس کا بل مسجد کی کمیٹی چندہ سے جمع کرواتی ہے۔ ایڈوکیٹ بدر علی اور اسکی فیملی بار بار مسجد کارڈ استعمال کر کے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کر کے ذاتی مفاد اور فوائد حاصل کر رہی ہے۔
اس گیس پائپ لائن کا علم راجہ یعقوب صاحب کو تب ہوا جب ٢٠٢٢ میں ملحقہ پلاٹ پر تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔زمین کی کھدائی پرپائپ لائن نظر آئی مذکورہ فیملی کو اطلاع دی گئ کہ محکمہ گیس کو درخواست دیکر یہ لائن نکلوا کر گلی میں شفٹ کروائیں۔جس پر "قانون کے رکھوالے" مسمی ایڈوکیٹ بدر نے کمال دیدہ دلیری دکھاتے ہوئے صاف انکار کر دیا۔اس نے دھمکی دی نہ پائپ لائن نکالوں گا نہ ہی کسی کو نکالنے دوں گا۔جس پر راجہ یعقوب صاحب نے خود گیس کےجی ایم کے نام درخواست دی۔اور ادارے نے گیس پائپ لائن گلی میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
"انصاف کے علمبردار" بدر علی نے نہ صرف محکمہ کو ڈرایا دھمکایا بلکہ سول کورٹ میں مسجد کا راستہ بند کرنے کا مقدمہ بھی دائرکر دیا۔مقدمہ کے باعث محکمہ نے گیس پائپ لائن کی منتقلی کا کام روک دیا ۔
عدالت کے حکم پر محکمہ پولیس نے انکوائری کی اور رپورٹ تیار کی۔ رپورٹ میں یہ بات واضح کی گئ کہ مسجد کا راستہ بالکل صاف طور پر کھلا ہے۔اور موجودہ پلاٹ سے مسجدکا کوئی راستہ نہیں گزرتا۔لہذایڈوکیٹ بدر علی جو کہ متعدد وکلا کی مدد سے یہ کیس لڑ رہے تھے۔ان کی درخواست کو جج سید فیضان رسول نے مسترد کر دیا۔اس میں یہ امر قابل غور ہےکہ راجہ یعقوب صاحب کے بیٹے راجہ عاصم یعقوب نے متعدد وکلاء کی کیس لینے سے معذرت کے بعد اپنی پراپرٹی کا کیس خود لڑنے کا فیصلہ کیا اور متعدد وکلاء کے مقابلے میں دلائل خود دیے اور کیس جیت لیا۔دلائل سن کر جب جج صاحب نے بدر سے اپنے کیس کو پیش کرنے کا کہا تو کیس کو طول دینے کیلئے وہ بولا میری تیاری نہیں مجھے تین چار دن دیے جائیں. اس پر جج صاحب نےایک دن کا وقت دیا اور کہا میں تمھارے دلائل کل سنوں گا اور ساتھ ہی اپنا فیصلہ تحریر کروں گا۔اگلے روزجج سید فیضان رسول نے کیس سنا اور راجہ عاصم کے حق میں فیصلہ دے دیا۔جس کا "انصاف کے چمپیئن" کو دلی دکھ ہوا۔
یہ مقدمہ سول مقدمات میں تیز ترین فیصلوں میں ایک ریکارڈ ہے۔اس منصفانہ،تیز ترین،اور کسی وکلاء کے پریشر کو قبول نہ کرتے ہوئے اور دوسرے فریق کی جانب سے کسی وکیل کے پیش نہ ہونے کے باوجود حقائق کو مدنظررکھتے ہوئے، آن میرٹ بروقت فیصلے اور فوری انصاف پر جج سید فیضان رسول کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اللہ کرے پاکستان کی ہر عدالت میں پاکستانی عوام کو ایسے جج نصیب کرے جو بروقت اور فوری انصاف مہیا کر سکیں۔آمین
عدالتی فیصلے کے بعد محکمہ گیس نے اپنا کام دوبارہ شروع کیا۔
"انصاف اور قانون کے رکھوالے" ایڈوکیٹ بدر علی MBBS یعنی(ماں ،بہنوں ،بیوی،سمیت) نے موقع پر آ کرکافی رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جس پر ادارے کی جانب سے انھیں آگاہ کیا گیا کہ آپ کار سرکار میں مداخلت نہ کریں۔انھیں بڑی مشکل سے سمجھا بجھا کر واپس کیا گیا۔اس پائپ لائن کی منتقلی کےبعد گھر بنانے کیلئے بنیادیں کھودی گیئں۔
ابھی بھی اس پراپرٹی کی پیمائش کےمطابق
6*80 مربع فٹ
تقریباً پونے 2 مرلہ زمین مالیت 15 لاکھ پر
"انصاف کے علمبردار" ایڈوکیٹ بدر علی ناجائز طور پر مسجد کے سٹور کی صورت میں قابض ہے۔جس دن پلاٹ میں بنیادیں کھودی گئی اس سے اگلے دن جب پلاٹ پر کام کے لیے امیر حمزہ اکیلا آیا تو اس نے مسجد کی طرف کی بنیادوں کو بند دیکھا تو اس نے پوچھایہ حرکت کس نے کی ہے تو "قانون کے رکھوالے " نے کہا میں نے بنیادیں بند کیں ہے۔گویا عدالت کے فیصلے کی توہین "قانون کےرکھوالے" نے بذات خود کی۔اس کی ماں ،بیوی اور بہن وکیل افشین صفدر اس گھرانے کی ایک اور قانون دان بھی ساتھ میں آئی اورتلخ کلامی اور سینہ زوری شروع کر دی کہ یہ جگہ تم استعمال نہیں کر سکتے۔ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔اس کےبعدان کی آپس میں گالم گلوچ ہوئی اور "قانون کے رکھوالے" نے "قانون کی رکھوالی" اپنی بہن وکیل افشین کیساتھ مل کرنہتے حمزہ پر پتھروں اور اینٹوں سے دھاوا بول دیا۔وہ جب تھوڑا ہوش میں آیا تو راجہ عاصم کو فون ملایا تو بات نہیں کر پایا اور پیچھے شور کی آوازیں آ رہی تھی راجہ عاصم جائے وقوعہ پر پہنچا اس کے گلے پڑنے کے لیے ایڈوکیٹ بدر علی کی ماں اور وکیل بہن افشین صفدر آگے آئیں اس نے کہا واپس جاو میں عورتوں کی بہت عزت کرتا ہوں اور آپ کو قطعا اجازت نہیں میرے پاس آو بدر کو بھیجو میں اس سے بات کروں گا۔اس نے کہا میں مسجد کے پاس بنیاد نہیں رکھنے دوں گا ۔راجہ عاصم نے اس وقت بحث کرنا سے زیادہ ضروری زخمی حمزہ کو ہسپتال پہنچانا سمجھا.ہسپتال میں وکیلوں کا مافیا دوبارہ حملہ آور ہوا وہاں کافی فیملی ممبران مسلے کوپرامن حل کرنے کی تجاویز دے رہے تھے اس لیئے بات ہاتھاپائی سے آگے نہ بڑھ پائی۔
محسن صغیربھٹی ایڈوکیٹ سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی، صدر انجمن حسینیہ و متولی امام بارگاہ وکلاء کے جتھے کی قیادت کرتے ہوئے تھانے پہنچے. ایس ایچ او کو پریشرائز کرتے ہوئے راجہ عاصم،راجہ حمزہ اور راجہ بلال پر مسلح ہونے اور مزید 7 افراد پر ملوث ہونے کا جھوٹا الزام لگایا گیا، سنگیں دفعات لگائے کئے۔اور جائے وقوعہ پر جعلی طور پر فائرنگ کر کے شیل اکٹھے کر کے جھوٹا وقوعہ تیار کیا گیااور ایک جانب وکلاء نے ایس ایچ او کو گھیرا دوسری جانب باقی لڑکوں سے صلح کا جھانسہ دیکر بٹھائے رکھا اور وہی سے گرفتارکروا دیا۔۔۔اور اس کے بعد ایڈوکیٹ محسن صغیر بٹھی نے دھمکایا میں سابقہ وزیراعظم اور موجودہ ایم-این-اے راجہ پرویز اشرف کا "رائٹ ہینڈ" ہوں اور بار میں کافی اثرورسوخ رکھتا ہوں. دوسری پارٹی کی درخواست ہونے دوں گا اور نہ ہی گوجرخان بار اور راولپنڈی بار سے دوسری پارٹی کووکیل ملے گا. اگلے دن دونوں پارٹی کا جرگہ بیٹھا اور بدر علی نے بلیک میل کیا جو پارٹی رستہ کے نام پر زمین دے گی اس کے ساتھ صلح ہو جائے گی ۔آپ جگہ دے دیں تو دس میں سے آٹھ بندے بری ہو جا ئیں ۔راجہ عاصم اگر اپنے پلاٹ سے جگہ نہ دے تو اس کے خلاف کیس چلے گا۔۔ متعلقہ پارٹی کو پہلی بار تھانے میں دھوکہ دیامعمولی تلخ کلامی پر اتنا بڑا جھوٹا کیس بنایا گیا۔اور ١١فروری کوجھوٹا کیس بنا کر تھانے میں موجود دوسری پارٹی کے بیگناہ لوگوں کو محسن صغیر بٹھی اور ان کے ساتھی وکلاء کے گروپ نے ایس ایچ او کو پریشرائز کر کے جعلی اور بے بنیاد ایف آئی آر کٹوائی۔اور بیگناہ لڑکوں کو لاک اپ میں بند کر دیا۔ اور ١۵فروری تک اپنی جھوٹی کمپین چلائی اور بار کیساتھ ملکر مظاہرے کیے اور پھر ایس ایچ او کو پرائشرائز کر کے١۵فروری ہی کو4دن کے بعد جھوٹی دفعہ324اقدام قتل کی لگوا دی گئی۔اس سے قبل ایس ایچ او تھانہ گوجرخان پریشر قبول نہین کر رہے تھے اورنہ ہیتوہین مسجد اورنہ دفعہ 324 لگا رہے تھے۔کس قدر اندھیر نگری ہے ۔اگر عام آدمی قانون توڑے تو وہ دہشت گرد اور کالے کوٹ میں چپھی یہ مٹھی بھر کالی بھیڑیں نہ صرف عدالت کےفیصلے کو قبول نہ کریں اس کے خلاف جاکر اس فیصلے کی دھجیاں اڑائیں بلکہ بیگناہ اور معصوم شہریوں کی زندگی کو منصفی کےمقدس کالے کوٹ کوپہن کر اس میں چپھے یہ ملک دشمن عناصر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلیں اور استحکام پاکستان کو نقصان پہنچائیں۔عدالت ریاست کا بنیادی پلر ہوتا ہے نہ ہمارے دین میں کوئی قانون سے مبرا ہے اور نہ ہی دنیا کے کسی قانون میں اس کی گنجائش ہے۔جب حضرت عمر ایک کرتے کے حساب دے سکتے ہیں جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق فاطمہ بنت محمد بھی قانون سے بالاتر نہیں ہیں تو ان کالے کوٹوں میں چھپے مٹھی بھر کالے کرتوں والی کالی بھیڑیں کیسے قانون کواپنے گھر کی لونڈی بنا سکتی ہیں۔اب یہ کالا سسٹم میری مقدس ارض پاک پر نہیں چلے ۔انشاءاللہ وکلاء کے بنائے گئے اس جھوٹے مقدے سے ہی انشاءاللہ پاکستان کے سسٹم میں انصاف کی دنیا کا انقلاب آئے گا۔وکالت ایک مقدس پیشہ ہے اور ہم اس کی دل سےقدر کرتے ہیں ہماری عدلیہ ہمارے سر آنکھوں پر مگر اس کالے کوٹ میں چپھے یہ ڈرگ مافیا،قبضہ مافیا کی من مانی اب نہیں چلے۔یہ ملک خداداد پاکستان بیرسٹر قائداعظم محمد علی جناح کی شبانہ روز محنت سے معرض وجود میں آیا اور یہ ہم سب کی ریاست ہے ۔ہم سب قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔وہ قومیں بہت جلدتباہ ہوتی جہاں سےانصاف اٹھ جاتا ہے۔مگر ہم تھانہ گوجرخان کو وکلا گردی کا شکارہو جانے کے بعد چیف جسٹس پاکستان، وزیراعظم پاکستان سے اس کیس پر از خود نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہیں۔جس کیس کا فیصلہ پہلے بھی گوجرخان میں جج سید فیضان رسول راجہ عاصم یعقوب کے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں۔ جس کیس کو وکلاء کے بائیکاٹ کے باوجود راجہ عاصم یعقوب خود متعدد وکلاء کے مقابلے میں جیتا اور ایڈوکیٹ بدر علی انتقامی کاروائی پر اتر آیا۔ اور اس کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں کیونکہ تھانہ گوجرخان کو وکلاء برادری نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس کیس کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔اور آرمی چیف سے گوجرخان ڈرگ مافیا کے خلاف ایک ضرب عضب کی درخواست ہے تاکہ کالے مقدس کوٹ جسم پر سجا کر اندر چپھے ڈرگ مافیا بے نقاب ہو سکیں جھنوں نے گوجرخان کی آدھی سے زائد نوجوان نسل کو نشوں کی لعنت میں مبتلا کر رکھا ہے۔خدارا اگر پگڑی والے طالبان تلف کرنے سے پاکستان کا امن بحال ہو سکتا ہے تو باقی کا امن پاکستان کالے کوٹ میں چپھے "ضمیرکے سوداگروں" اور" نام نہاد منصفوں "کو تلف کرنے سے خوشحال ہو گا۔ پلیز آرمی چیف صاحب اگر گوجرخان کی نوجوان نسل کو بچانا ہے تو فوری ایکشن لیں۔گوجرخان کے سفید پوش والدین آپ کے بہت ممنون ہوں گے۔
اورکیس میں قانون کا ناجائز استعمال کرنے خود کالا کوٹ پہن کر عدالتی فیصلے کی بےحرمتی کرنے اور ثابت ہونے پر ایک ضرب عضب ان کالے کوٹوں میں میں چپھے لینڈ مافیا ،ڈرگ ڈیلرز اور دہشت گردوں کے خلاف بھی جو قانون کا سہارا لے معصوم عوام کی پراپرٹی ،عزتوں کےساتھ کھیلتے ہیں اور نوجوان بچوں اوربچیوں کی رگوں میں زہر اتار رہے ہیں اور پاکستان کا امن و امان کیساتھ ساتھ مستقبل بھی تباہ کر رہے ہیں۔ ہمیں حکومت پاکستان،سپریم کورٹ اور چیف جسٹس سے انصاف چاہیئے۔اور ایڈوکیٹ بدر علی کی متعلقہ زمین کی جانچ پڑتال بھی آزادانہ ٹیم سے کروائی جائے تاکہ ساری حقیقت کھل سکے کون مجرم ہے اور کون منصف!!
یہ بات یاد ریے یہ حصہ مسجد نہیں بلکہ ایکسٹراسٹور ہے ۔اور یہ بلیک میل کرنے کے لیے صرف مسجد کا کارڈ استعمال کر کے راجہ یعقوب صاحب سے ان کے سارے پلاٹ میں سے رستہ لینا چاہتا ہے جو چار مرلے جگہ بنتی ہے جس کی مالیت چوبیس لاکھ روپے بنتی ہے۔راجہ یعقوب صاحب اس ایڈوکیٹ بدر علی اور اس کی فیملی کی ساری بے ایمانی جانتے ہیں۔اس لیے وہ اس کے جھانسے میں نہیں آتے۔
جج سید فیضان رسول کو اکیس توپوں کی سلامی جو ان جیسے وکلاء کے ہوتےہوئےاتنے منصفانہ اور فوری انصاف کے فیصلے کرتے ہیں۔
ہمارے ملک میں اتنے جھوٹے ،مفادی،دو نمبر جعلی کیس کرنے والے ،تھانے کو یرغمال بنا کر اپنی مرضی کے جھوٹے کیس بنا کربے گناہ لوگوں پھسانے والے ،کالے کوٹ کی توہین ،انصاف کا جنازہ نکالنے والے،وکلاء کےنام پرکلنک یہ دو نمبر وکیلوں سے یہ کالےکوٹ واپس لینے چاہیے۔جو اپنے کرپٹ سیاسی لیڈروں سے کیش وصول کرتے ہیں۔دو نمبر دھندے کرتے ہیں ۔جو منشیات کے اڈے چلاتے ہیں ۔اور پھر کالے کرتوت کالے دھندے کرنے کے بعد کالے ضمیروں کے ساتھ معصوم لوگوں پر اپنے دو ٹکے کے مفادات کیلئے قبضہ گروپ بن کر دھمکیاں لگاتے اور نظام انصاف کو بدنام کرتے ہیں۔یہ ہیں وہ کالی بھیڑیں جو اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
۔اگر فوج میں کورٹ مارشل ہو سکتا ہے تو وکلا کو بھی عدلیہ کے فیصلوں کی دھجیاں اڑانے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والی ایسی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرنا چاہیے.
سیاسی جماعتوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ کہیں انکا نام استعمال کر کے کوئی اپنے مذموم مقاصد تو نہیں حاصل کر رہا.
ایڈوکیٹ محسن صغیر بھٹی صاحب(صدر انجمن حسینیہ و متولی امام بارگاہ) !!
آپ حضرت علی کے ماننے والے ہیں ان کی یہ بات بھی کاش آپ کی عقل سلیم میں آ جائے۔۔حضرت علی کا قول ہے معاشرہ کفر کی بنیاد پر تو زندہ رہ سکتا ہے ظلم کی بنیاد پر نہیں رہ سکتا۔
ہم کسی قسم کے ظلم اور بلیک میلنگ کوقبول نہیں کریں گے۔اپنی وراثتی زمین لوٹ مار کر کے اور بلیک میل کر کےہتھیانے نہیں دیں گے۔۔
بات ہو جب بھی کبھی ضمیر کے سودے کی
ڈٹ جاو تم "حسین" کے انکار کی طرح
ہم ظلم کے خلاف کل بھی ڈٹے ہوئے تھے اور آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور کل بھی ڈٹے رہیں گے (انشاء اللہ)۔
کسی قبضہ گروپ کسی جھوٹے وکیل اور جھوٹی ایف آی آرکرانے والے وکیل ،کسی منشیات فروش کو اپنی زمین سے چار مرلے تو کیا ایک انچ زمیں لینے نہیں دیں گے۔
آپ تھانہ کنٹرول کر سکتے ہیں، بارکنٹرول کر سکتے ہیں، ججز پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن ہمیں حق بات کہنے اور اپنا حق لینے سے نہیں روک پائیں گے (انشاءاللہ)
اور دوسری بات آپ نے حضرت امام حسین کی مجالس سجانا اور ان میں ماتم کرنا سیکھا ہے۔ اور ہم نے ان سے یزید (ظالم) کی اطاعت نہ کرنا اور حق کے لیے گردن کٹوانا سیکھا ہے ۔اور ہم کسی یزید کے سامنے نہ جھکے ہیں اور نہ جھکیں گے، آپ سے التماس ہے ایک بار کربلا کی کہانی دوبارہ پڑھیں اور پھر اپنےگریبان میں جھانک کر اپنے کردار کا جائزہ لیں آپ اس کہانی میں کہاں کھڑے ہیں؟؟؟ ۔
یہ دنیا چار دن کی ہے اللہ کی عدالت میں نہ رشوت چلتی ہے اور نہ پرویز اشرف کے" دائیں بازو "کی من مانی چلے گی اور نہ ہی صرف"دائیں بازو" کوجنت میں داخل کیا جائے گا ۔"دائیاں بازو" ادھر ہی جائے گا جدھر "پورا پرویز اشرف" جائے گا۔گزارش ہے اپنی آخرت چند ٹکے کی دنیا کے لیے داو پر مت لگائیں۔باقی اللہ امام حسین کے ساتھ کل بھی تھا اور امام حسین کے رستے پر چلنے والوں کے ساتھ آج بھی ہے۔ہمیں کوی فکر نہیں۔
دھمکایا گیا کہ کہ پوری بار سے کوی وکیل کیس نہیں لے گا،میرا سوال یہ ہے کہ اگر کالے کوٹ والے مافیا بن کرایسے جھوٹے مقدمے کریں گے تو کیا اس مقدمے کو لڑنے کے لیے کسی دوسرے کالے کوٹ والے پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟؟؟میرا خیال ہے بالکل نہیں!! اگر کالے کوٹ پہننے والے ایسے ہوتے ہیں جیسے اوپر بتائے گئے ہیں تو ہم عدلیہ سے وکیل لینے سے معذرت کر کے اپنا کیس فاضل جج کے سامنے اپنے رب کو حاضر ناظر جان کر سچ کی بنیاد پر خود لڑیں گے اور win کریں گے۔انشاءاللہ۔۔۔
اس ملک کا المیہ یہ ہے جہاں سو سو افراد کے قاتل، ہزاروں،لاکھوں ایکڑ کے لینڈ گریبر،ٹی ٹی پی کے دہشت گرد حتی کہ کلبوشن یادیو (ہندوستانی دہشت گرد) وکیل کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے ۔لیکن وکلاء گردی کے خلاف ڈٹ جانے والے کو وکیل کرنے کا کوئی حق نہیں اور اس تحصیل اور ڈسٹرکٹ کی کورٹ بار اس شخص کا بائیکاٹ کرتی ہے۔(اس کوٹ بار میں بہت سے شریف النفس، اعلی، قابل اور لائق وکلا بھی اس ظلم کا ساتھ دینے پر مجبور کیے جاتے ہیں)
باقی یہ دینا کی عدالتیں عارضی عدالتیں ہیں ۔اللہ کی بڑے دن کی بڑی عدالت سے ڈرنا چاہیے جہاں کوئی بات ایسی نہیں ہوگی جس کا حساب نہیں ہو گا۔اللہ کے آگے جوابدہی کا احساس اور حق کی خاطر گردن تک اتروا دینا اصل حسینیت ہے اور یہی ہمارا طرز زندگی ہے اور رہے گا.
عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا...!!
وقت کے سارے خداوں سے الجھ بیٹھا ہو.
You must be logged in to post a comment.